27 اکتوبر 2026 - 14:06
حزب اللہ: ایران کو کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں

لبنانی پارلیمان میں حزب اللہ کے وفاداری برائے مزاحمت پارلیمانی بلاک کے سینئر رکن حسن فضل اللہ نے اصولِ مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو کبھی ہماری ضرورت نہیں رہی، بلکہ لبنان ایران کی طاقت اور اس کے تعاون پر انحصار کرتا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حسن فضل اللہ نے لبنان اور خطے کی حالیہ صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں مزاحمت ملک کے دفاعی قوت کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ان کے بقول، موجودہ مرحلے میں مزاحمت کی ذمہ داری سرزمین کو آزاد کرانا، بے گھر افراد کی واپسی کی راہ ہموار کرنا، قیدیوں کو آزاد کرانا اور ملک کی تعمیرِ نو ہے۔

حسن فضل اللہ نے بنت جبیل شہر میں حزب اللہ کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے فیصلے لبنانی ہوتے ہیں اور اس کی قیادت خود یہ فیصلے کرتی ہے۔ ملک کے اندر یا باہر کوئی بھی فریق اس پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اصول شہید سید حسن نصراللہ کی سربراہی میں مستحکم ہوا تھا اور آج شیخ نعیم قاسم کی قیادت میں بھی برقرار ہے، جبکہ مستقبل میں بھی اس کا تسلسل جاری رہے گا۔

فضل اللہ کے مطابق، لبنان میں بعض حلقے مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مزاحمت دشمن کے خلاف کارروائیوں سے متعلق فیصلے بیرونی قوتوں کی خواہش پر کرتی ہے۔ انہوں نے اس بیانیے کو عوام کی عقل و شعور کی توہین اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کا مؤقف اس کی اپنی مرضی، جائزے اور قومی مفادات کے ادراک سے جنم لیتا ہے، جس کا اعلان قیادت مناسب وقت پر کرتی ہے۔ یہ تمام اقدامات اس مقصد سے وابستہ ہیں جس کے لیے مزاحمت جدوجہد کر رہی ہے، یعنی جنوب کی سرزمین کو آزاد کرانا اور وہاں واپسی ممکن بنانا۔

حسن فضل اللہ نے کہا کہ ایران نے نہ ماضی میں اور نہ ہی آج ہم سے کبھی یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہم امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں اس کی حمایت کریں۔ اس کے برعکس، جب ہم ایرانی حکام سے ملاقات کرتے ہیں تو وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں کیا درکار ہے اور لبنان کے مفادات کیا ہیں، تاکہ وہ ہماری مدد کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایران، اس کی طاقت اور اس توازن پر انحصار کرتے ہیں جسے وہ اسرائیلی قبضے سے ہمارے ملک کی آزادی میں مدد دینے کے لیے تشکیل دینا چاہتا ہے۔

حزب اللہ کے اس رکن پارلیمان نے کہا کہ جنگ کا آغاز صیہونی قابض حکومت نے کیا تھا، لہٰذا اس کی ذمہ داری امریکہ اور صیہونیوں پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول، لبنان کے بعض داخلی حلقے یہ نعرہ دہراتے ہیں کہ جنگ اور امن کا فیصلہ صرف ریاست کے اختیار میں ہونا چاہیے، حالانکہ وہ اس طرح رائے عامہ کو گمراہ کرتے ہیں، گویا جنگ شروع کرنے کی طاقت اور ارادہ لبنانی حکومت کے پاس ہے، دشمن کے پاس نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہی حلقے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ملک پر قبضے اور جارحیت کے دوران ہتھیاروں پر ریاست کی اجارہ داری کے اصول پر اصرار کرتے ہیں۔

حسن فضل اللہ نے زور دیا کہ قبضے کی صورتِ حال میں ہتھیاروں جیسے معاملات پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق، ان مسائل پر قومی اصولوں کی بنیاد پر بات چیت ہونی چاہیے، اور یہ مرحلہ سرزمین کی آزادی، دیہات میں واپسی، تعمیرِ نو اور قیدیوں کی رہائی کے بعد آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کو درپیش وجودی خطرہ صیہونی حکومت کی جانب سے لبنانی سرزمین کے بعض حصوں پر قبضے اور انہیں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں ضم کرنے کے منصوبے سے پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے بقول، اسی طرح کے اقدامات مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں اور مغربی کنارے میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

فضل اللہ نے دعویٰ کیا کہ اگر مزاحمت موجود نہ ہوتی تو صیہونی منصوبہ بہت پہلے کامیاب ہو چکا ہوتا۔ ان کے مطابق، مزاحمت کی موجودگی دشمن کو جنوبی لبنان میں اپنے تاریخی خواب کی تکمیل سے روک رہی ہے، اسی لیے قابض حکومت لبنانی دیہات، بالخصوص بنت جبیل، کو نشانہ بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کے لیے دوسرا وجودی خطرہ ان حلقوں سے ہے جو اسرائیلی جارحیت پر انحصار کرتے ہیں تاکہ لبنان کو دوبارہ بیرونی تسلط اور قونصلوں کی حکمرانی کے دور میں لے جایا جا سکے اور بیرونی طاقتوں کے زیرِ کنٹرول ایک چھوٹی فرقہ وارانہ ریاست قائم کی جا سکے۔

حسن فضل اللہ کے مطابق، آج لبنان کے تحفظ کے دو بنیادی عوامل ہیں: مزاحمت کی موجودگی اور لبنانی فوج کا قومی کردار، بالخصوص داخلی امن و ہم آہنگی کا تحفظ۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے مزاحمت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لبنانی فوج پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول، بعض حلقے فوج کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، کیونکہ وہ اسے لبنان کی تقسیم اور تفرقے کے منصوبے کی راہ میں ایک قومی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

حزب اللہ کے رکن پارلیمان نے کہا کہ اس وجودی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی عہدیداروں میں قومی شعور، دانش مندی اور ذمہ داری کا احساس ضروری ہے۔ ان کے مطابق، قومی سطح پر حل کی راہ قومی مفاہمت کی دستاویز، آئین اور ان قوانین کی طرف واپسی میں ہے جو دشمن کے ساتھ تعلقات، رابطے یا اس کی تشہیر کو جرم قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اصولوں کے تحت لبنانی عوام کے لیے قبضے کے خلاف مزاحمت کے حق کی ضمانت اور فتنہ انگیزی و فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔

آخر میں حسن فضل اللہ نے کہا کہ صیہونی دشمن کے ساتھ مذاکرات کے لیے لبنانی حکام نے جو سیاسی راستہ اختیار کیا ہے، وہ تعطل کا شکار ہو چکا ہے۔ ان کے بقول، اس راستے نے کوئی حل فراہم نہیں کیا، بلکہ دشمن اسے لبنان کے عوام کے خلاف مزید جرائم کے ارتکاب کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی عناصر لبنان پر قبضے کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے ملک کے اندرونی اختلافات اور انتشار کو ہوا دینے پر بھی انحصار کر رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha